جنیوا3مارچ(ایس او نیوز ؍آئی این ایس انڈیا)روس نے جنیوامیں اقوام متحدہ کی ثالثی میں جاری مذاکرات میں شریک شامی حزب اختلاف کے بڑے گروپ پر امن عمل کو سبوتاڑ کرنے کاالزام عایدکیاہے۔روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخروخا نے یہ سخت بیان شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے وفد کی جنیوامیں نائب وزیر خارجہ گیناڈی گیٹلوف سے ملاقات کے ایک روز بعد جاری کیا ہے۔انھوں نے جمعرات کو ماسکو میں ایک نیوزبریفنگ میں کہا:’’ بدقسمتی سے ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے کہ گذشتہ چند روز کی بات چیت کے دوران میں ایک مرتبہ پھر شامی حزب اختلاف کے نمائندوں کے کسی ڈیل تک پہنچنے کے لیے صلاحیت کے حوالے سے سوالات پیدا ہو گئے ہیں‘‘۔ماریہ زخروفا کا کہنا تھا ’’ نام نہاد اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی ماسکو اور قاہرہ کے پلیٹ فارموں سے برابری کی بنیاد پر تعاون سے انکاری ہے اور اس طرح وہ مذاکرات کو مکمل طور پر ہی سبو تاڑ کررہی ہے‘‘۔ ان کا اشارہ شامی حزب اختلاف کے دو چھوٹے گروپ کی جانب تھا جنھیں روس کی حمایت حاصل ہے۔مغرب ،عرب ممالک اور ترکی کی حمایت یافتہ شامی حزب اختلاف کی اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے وفد نے بدھ کے روز روس کے نائب وزیر خارجہ گیناڈی گیٹلوف سے ملاقات کی تھی اور ان سے روس کی جانب سے جنگ بندی کے وعدوں کو بار بار توڑنے اور شامی رجیم کے وفد پر دباؤ ڈالنے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا تھا۔اس کے بعد اعلیٰ مذاکراتی کمیٹی کے وفد کے سربراہ ناصر الحریری نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ گیٹلوف کے ساتھ ان کی ملاقات مثبت رہی تھی اور انھوں نے سیاسی انتقال اقتدار اور دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت مختلف امور پر خوش گوار ماحول میں تبادلہ خیال کیا تھا۔انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ روس شامی رجیم پر سیاسی انتقال اقتدار کے دباؤ ڈال رہا ہے۔